سوموار، 2 مارچ، 2015

مردِ مبارز - آیت اللہ خامنہ ای

امام خامنہ ای،  خلیفۃ المسلمین اور ولی امربننے کا سودا سر میں لئے آقائے خامنہ ای اپنے مخالفین کے لئے  کیا کیا نسخے باندھتے ہیں
****
رہبر معظم انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی حالات زندگی کے مطالعے کے دوران انقلاب سے پہلے ان کی جدوجہد اور مبارزوں کے بارے میں پڑھ کر بے ساختہ یہ بات ذہن میں آئی کہ اگر ان کی زندگی کو مبارزوں سے بھرپور زندگی کہیں تو بیجا نہ ہوگا۔ انقلاب سے پہلے رژیم شاہی کے خلاف برسرپیکار رہے، انقلاب کے بعد اقتدار کے حصول کے لئے برسر پیکار رہے، اقتدار کے حصول کے بعد اپنی کرسی کو تقویت دینے کے لئے برسر پیکار رہے۔ آٹھ دس سال کی محنت سے جب رہبری کو گھر کی لونڈی بنا ڈالا تو خود کو مجتہد کہلوانے کی تک و دو میں لگ گئے۔جب اس مہم سے فارغ ہوئے تو اس مردِ مبارز نے وقت ضائع کئے بغیرخود کو شیعہ مراجع تقلید کی فہرست میں شامل کرنے کی جدوجہد میں لگ گئے۔ آپ کے عزم صمیم سے جب یہ قلعہ بھی فتح ہوا تو آپ کی پارہ صفت طبیعت نے اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ مرجعیت اعلی کے لئے شب و روز کوشاں رہے۔ اب امام خامنہ ای بننے کا سودا ان کے سر میں سمایا ہوا ہے جس کے لئے بیت المال سے زر اور خفیہ ایجنسیوں سے طاقت کے بے دریغ استعمال کو خود پر ماں کے دودھ کی طرح حلال سمجھتے ہیں۔

 اپنے مخالفین کی ناک رگڑوانے میں تو ان کا کوئی ثانی نہیں۔ کفر، ارتداد، مفسد فی الارض، تضعیف نظام، ضد ولایت فقیہ، امنِ عامہ کا دشمن، ملک کا غدار،  دشمنوں کا آلہ کار، اسرائیل کا ایجنٹ،  امریکی ایجنڈے پر کام کرنے والا جیسے اکسیر نسخے ہمیشہ ان کی جیب میں پڑے رہتے ہیں جنہیں استعمال کرکے اپنے ناپسندیدہ فرد کو ذلت و رسوائی کے گھڑے میں پھینکنا آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اگر ان میں سے کوئی نسخہ مطلوبہ شخص پر کارگر ثابت ہونے کی امید نہ ہو تو حضرت آقا اپنی صندوقچی کھولتے ہیں جس میں چند خصوصی نسخے جیسے پیغمبری کا دعویٰ، امام زمانہ سے ملاقات کا دعویٰ ، دین میں بدعت وغیرہ یا پھر احتیاط واجب کے طور پر بدکاری، ناجائز تعلقات وغیرہ جیسے الزامات کے مجرب نسخے ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔

ایران کی سرزمین پر کوئی ایسا آزاد منش مجتہد، عالم دین، متفکر، دانش مند، صاحب قلم اور صاحب ذوق باقی نہ ہوگا جس نے ان نسخوں میں سے ایک کا ڈنڈا نہ کھایا ہو۔  ان نایاب نسخوں کا اس فرد پر ایسا گہرا اثر ہوتا ہے کہ وہ شخص یا تو ہر درد و غم سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہوجاتا ہے اور اس کے عزیز و اقرباء اس پر آنسو بہا کر گزارہ کر لیتے ہیں یا پھر جیلوں کےسنگل سیل میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دن رات موت کی تمنا کرتا ہے ۔ صرف چند کافر قسم کے لوگ  ایسے ہوتے ہیں جو ان نسخوں سے چند سال فیضیاب ہونے کے بعد سرزمین ایران کو خیرباد کہہ کر دیارِ غیر کی طرف پناہ لے جانے کی غلطی کرتے ہیں۔

 ایک آخری نسخہ، جسے ملک کے اندر اور ملک سے باہر چند لاعلاج بیماریوں  کے لئے شافی علاج کے طور پر ماضی میں زیادہ استعمال کیا جاتا تھا، آجکل بعض جانبی مضر اثرات کی وجہ سے ذرا احتیاط کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ یہ نسخہ مریض کے لئے تو نہایت مفید ہے مگر تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ  حضرت آقا اور ان کے حواریوں کے لئے جانبی مضر اثرات  کا حامل ہے ۔ اس آخری نسخے کا طریقہ استعمال یہ ہے کہ مریض کو بندوق کی گولی ، چاقو کے پے درپے وار ، گلا گھونٹ کر یا ایکسیڈنٹ وغیرہ کے ذریعے دیا جاتاہے یعنی اس شافی نسخے کا نام نامی" موت" ہےجسے حضرت آفتاب اور آپ کے ماتحتانِ  بے حدوحساب پیار سے "غیبی ہاتھ" کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔

 رہبر معظم کے مبارزوں کی فہرست بہت طویل ہے جسے اگر ضبط تحریر میں لایا جائے تو دفتروں کے دفتر بھر جائیں اور اگر بیان کرنے پر آجائیں تو گلے سوکھ جائیں۔ بلامبالغہ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ایران کو آقائے خامنہ ای جیسا رہبر کبھی ملا ہے اور نہ کبھی ملے گا۔یا سبحان اللہ

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں